چند دوست – ایکسپریس اردو

12

ڈاکٹر ناصر شاہ کا فرمان ملا، کہ ہفتے کی رات کو چند دوستوں کے ہمراہ اکٹھے کھانا تناول کرنا ہے۔ انکار کی تو خیر گنجائش ہی نہیں تھی اور نہ ہی مستقبل میں ہو سکتی ہے۔ وجہ بھی عرض کرتا چلوں بلکہ اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید۔ ہمارے اکثر لکھاریوں اور میڈیا پرسنز کو بھاری بھرکم سیاسی شخصیات کے ساتھ میل جول مرغوب لگتا ہے۔ صدر، وزیراعظم، وزراء اعلیٰ اور وزیروں کے ساتھ ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت تعلقات قائم کرنے کی کوشش فرماتے ہیں۔ یا کم ازکم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ طاقتور سیاسی شخصیات کے کافی قریب ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر دھڑادھڑ تصاویر پوسٹ فرماتے رہتے ہیں۔ ان کی دانست میں، یہی ان کی کامیابی کی دلیل ہے۔ بلکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ طاقتور بھی ہیں۔

آپ سب جانتے ہیں کہ میں کس طرح کے افراد کی بابت گزارش کر رہا ہوں۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی لوگ انھیں اپنے ذاتی مفاد میں بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے، اپنے ادنیٰ خیالات لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مگر دونوں فریق ایک دوسرے سے قطعاً مخلص نہیں ہوتے۔ دراصل یہ استعمال ہونے اور کرنے کا ہی سلسلہ ہے۔ اصلیت کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ منفی سلسلہ جاری وساری ہے۔

اس کے بالکل متضاد، طالب علم، اب اس مصنوعی سی دہلیز کو پار کر چکا ہے۔ زندگی کے 37 برس سول سروس کی پرخار وادی میں گزارے ہیں۔ ملک میں کوئی بڑا سیاسی نام نہیں ہے جس سے جزوقتی یا بھرپور ذاتی تعلق نہ رہا ہو۔ مگر اب صرف ان لوگوں سے ملتا ہوں جن سے مل کر خوشی ہوتی ہے۔ دفتر میں تو خیر ملنے والے تشریف لاتے رہتے ہیں۔ اور کاروباری مصروفیت کے تحت، بڑے اور چھوٹے، کاروباری حضرات کثرت سے ملاقات کے لیے پہنچتے رہتے ہیں۔ بلکہ چند احباب کا کہنا ہے کہ انھوں نے کسی ریٹائرڈ افسر کے دفتر یا گھر پر اتنی گہماگہمی نہیں دیکھی۔ بہرحال یہ ایک ذاتی سی بات ہے۔ اور معلوم نہیں کیوں، یہ قصہ لے بیٹھا۔ لیکن یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بڑے ناموں سے اب بہت دور رہتا ہوں۔ کیونکہ اکثر بلند عہدوں پر پہنچنے والے اشخاص بالکل بونے ہوتے ہیں۔

بات ناصر شاہ کی ہو رہی تھی۔ حسب حکم، دو دن پہلے لاہور کے ایک مقامی کلب میں حاضر ہوا۔ تو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے میری کلاس، یعنی 1979ء سے لے کر 1984ء تک کے بہت سے نایاب لوگ موجود تھے۔ لمحہ بھر میں، وقت واپس چلا گیا۔ اور ہم سارے پچھلی صدی میں اپنی تعلیمی درسگاہ میں چلے گئے۔ بلکہ ایسے لگا کہ ہم تمام لوگ کلب میں نہیں بلکہ میڈیکل کالج کی کینٹین پر بیٹھے ہوئے، خوش گپیوں میں مصروف کار ہیں۔ ویسے وقت بھی کیا ظالم عنصر ہے۔ جب گزر جاتا ہے تو پھر اس کے نشانات عیاں ہوتے ہیں۔ اور اثرات بھی حددرجہ مستقل ہوتے ہیں۔ خیر ناصر شاہ کا دسترخوان تو ہمیشہ سے وسیع ہوتا ہے۔ پر اس رات تو انھوں نے کمال ہی کر ڈالا۔ بہتات میں لذیز کھانا موجود تھا۔

بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے۔ خدا، ناصر کے خلوص کو اور بڑھاوا دے۔ اب ذرا اپنے ان ہم جماعتوں کا ذکر جو تشریف لائے تھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی انسان، اور اپنے اپنے شعبے میں کامیاب ترین پروفیشنل۔ سب سے پہلے جان محفل کا ذکر کرتا ہوں۔ اور وہ تھے ڈاکٹر فاروق علوی۔ علوی، ایک کمال بذلہ سنج انسان ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے خوشبودار جملے، غیب سے اترتے ہیں۔ کوئی بھی بات ہو تو علوی کا جواب اس قدر منفرد ہوتا ہے کہ انسان بے ساختہ قہقہہ لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر علوی، مذہب کی طرف تھوڑا زیادہ متوجہ ہو چکے ہیں۔ باریش بھی ہیں۔ بائیس برس منڈی بہاؤالدین کی ایک خانقاہ پر مقیم رہے اور مفت آنکھوں کی سرجری کرتے رہے۔

دو تین برس سے لاہور آ گئے ہیں۔ یہاں آ کر انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر لنگر شروع کر رکھا ہے۔ ریل ٹاؤن میں رہتے ہیں اور بلاناغہ، مستحقین میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ رہائش گاہ کے نزدیک جتنے بھی مزدور، گارڈز اور دیگر افراد ان کے گھر میں بچھی دریوں پر بڑی عزت سے کھانا کھاتے ہیں۔ کمال کی بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر علوی اور ان کی اہلیہ بھی وہیں کھانا تناول کرتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک نیک عمل ہے جو ڈاکٹر علوی صاحب کیے جا رہے ہیں۔ اب ذرا، ڈاکٹر احمد رضا کی بابت عرض کرتا چلوں۔ میرے کلاس فیلو تو خیر ہیں ہی، مگر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہماری کلاس کے لائق ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ شروع شروع میں اس کی ذہانت دیکھ کر پروفیسر بھی حیران ہو جاتے تھے۔

رضا نے ایک بار کتاب میں جو پڑھ لیا وہ ذہن نشین ہو گیا۔ اسے میڈیکل کی ضخیم کتابوں کے صفحہ نمبر اور جواب کی سطریں تک حفظ ہوتی تھیں۔ بہرحال گنگا رام اسپتال سے ریٹائر ہوئے اور اب تین چار برس سے آرام کر رہے ہیں۔ آج بھی اگر وہ محض پرائیویٹ پریکٹس شروع کر دے تو مختصر سی مدت میں کمال محنت کر سکتا ہے۔ حددرجہ جائز دولت بھی کما سکتا ہے۔ پر رضا نے دوبارہ پریکٹس شروع ہی نہیں کی۔ اس کے اندر کیا رمز ہے، وہی جانتا ہے۔ مگر یہ ضرور عرض کروں گا کہ ذہین لوگوں کے مسائل، ہمارے جیسے بنجر معاشرے میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ دراصل ہمارا سماج، لائق لوگوں کو برداشت کرنے کی سکت سے محروم ہے۔

خیر آگے بڑھتا ہوں، ڈاکٹر الیاس رفیع سے بڑے عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ الیاس رفیع ایک کامیاب آرتھوپیڈک سرجن ہے۔ لاہور کے ایک بہترین اسپتال میں اپنے شعبے کا انچارج ہے۔ لندن سے ایف آر سی ایس کرنے کے بعد، پاکستان واپس آیا۔ پھر اس نے قرآن حکیم حفظ کرنا شروع کر دیا اور بہت کم عرصے میں حافظ بن گیا۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ہڈیوں کی سرجری میں وہ بہت نمایاں نام ہے۔ درددل رکھنے والا انسان۔ پرانے دوستوں میں اس کے مخصوص قہقہے حددرجہ نمایاں ہوتے ہیں۔ دینی اور دنیاوی علم سے معمور شخص۔ آج بھی اپنی زعفرانی طبیعت کی بدولت مسکراہٹ بکھیرتا رہتا ہے۔ خدا اسے اسی طرح ہنستا مسکراتا رکھے۔ اب ذرا ڈاکٹر عامر علی شاہ کا ذکر خیر ہو جائے۔ عامر ایک مجموعہ حیرت ہے۔ لاہور بلکہ پاکستان کا بہترین جنرل سرجن۔ حددرجہ کامیاب ڈاکٹر۔ اپنے اسپتال کا چیف سرجن بھی ہے۔

یقین فرمایئے مجھے ہر وقت سفارشیں آتی رہتی ہیں کہ ذرا ڈاکٹر عامر کو کہہ دیں کہ ہمارا طبی معائنہ کر لیں۔ مجھے انکم ٹیکس کے عملے نے بتایا کہ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک ہے۔ یہ تو خیر اس کی فنی جہت ہے۔ مگر ذاتی زندگی میں حددرجہ سادہ طبیعت انسان ہے۔ نظم وضبط کا پابند۔ مگر کسی قسم کی نمائش سے کوسوں دور رہتا ہے۔ جس زمانے میں صدارتی تمغہ کی وقعت ہوتی تھی، تو صدر پاکستان نے اسے اپنے شعبہ کے لحاظ سے تمغہ سے نوازا تھا۔ میرا خیال ہے کہ صدارتی اعزاز کی عزت، ڈاکٹر عامر علی شاہ کی بدولت بڑھ گئی تھی۔ آج کل کی طرح نہیں کہ ٹاؤٹ، طبلچی اور رشتہ دار ہی صدارتی اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ بہرحال عامر علی شاہ اپنے شعبہ کی شان ہے۔ اور دوستوں سے تعلق نبھانے والا شخص ہے۔ خدا اسے ہر آفت سے دور رکھے۔

ڈاکٹر بلال بن خالد بھی آیا ہوا تھا۔ کمال کا دوست ہے۔ میڈیسن چھوڑ کر کاروبار شروع کیا اور تھوڑے عرصے میں پاکستان میں کپڑوں کا سب سے نمایاں برانڈ بنا ڈالا۔ طیبعت میں وہی شگفتگی جو پچاس برس پہلے تھی۔ وہی بے ساختگی جو اس کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ اب تو کاروبار بلال کے صاحبزادے دیکھ رہے ہیں۔ مگر بلال ابھی تک محفلوں کی جان ہوتا ہے۔ سیانا انسان ہے بلکہ اس کی ایک اچھی عادت حددرجہ قابل تعریف ہے۔ خدانخواستہ کسی دوست پر کوئی مشکل وقت آ جائے تو بلال اس دوست کا سہارا بنتا ہے۔ اور جب سکھ واپس آ جاتا ہے تو بغیر کچھ بتائے، اپنی دنیا میں واپس چلا جاتا ہے۔ کسی ستائش کی تمنا کے بغیر۔ ڈاکٹر لطیف بھی موجود تھا۔ طبی شعبہ تو اپنی جگہ، وہ ایک بھرپور عالم ہے۔

بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ جب بھی کوئی علمی گتھی سلجھانی ہو، تو ڈاکٹر لطیف سے رجوع کرتا ہوں۔ اور وہ ہمیشہ مجھے حیران کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر طارق لطیف بھی موجود تھا۔ طارق، بچوں کا سرجن ہے۔ اور ماشاء اللہ کامیاب سرجن ہے۔ طبیعت مکمل طور پر انگریزوں والی پائی ہے۔ لندن سے ایف آر سی ایس بھی کر آیا۔ پاکستان آ تو گیا مگر لندن اور گوروں کی اچھی عادات اپنے ساتھ لے کر لوٹا۔ طبیعت میں ایک خاص طرح کا رچاؤ ہے جس میں خلوص ہی خلوص ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر تجمل ہے۔ دوسروں پر جان چھڑکنے والا انسان۔ ہر ایک سے رابطے میں رہتا ہے۔ دوسرے کی پریشانی کو اپنا بنا لیتا ہے۔ اور پھر اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ ہماری کلاس کے کافی اجتماعوں میں بنیادی کردار تجمل کا ہے۔ اور پھر ڈاکٹر منیر کا ذکر۔ برطانوی فلموں کا ہیرو نظر آتا ہے اور بے حد خاندانی انسان۔ جس کے اندر کسی قسم کی کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ شاید آپ کے ذہن میں یہ تاثر ابھر رہا ہو کہ میں بے جا تعریف کر رہا ہوں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام قیمتی انسان، تعریف ہی کے قابل ہیں۔ خدا انھیں اپنی عافیت میں رکھے!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }