چین کے ادارے نے ایک مشین لرننگ ماڈل تیار کیا ہے جس نے معمول کے لیبارٹری ٹیسٹ کے اشاریوں کی مدد سے دل کی کمزور پمپنگ کے باعث ہونے والی ہارٹ فیلئر کی نشاندہی کرلی۔
طبی جریدہ فرنٹیئرزان کارڈیوویسکیولر کی جانب سے 9 اگست کو آن لائن شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چین کے شہر گوئی گانگ میں گوانگشی میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک اسپتال سے تعلق رکھنے والے ژی پنگ مینگ اور ان کے ساتھیوں نے معمول کے لیبارٹری ٹیسٹ پر مبنی ایک مشین لرننگ ماڈل تیار کیا ہے اور اندرونی طور پر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اس ماڈل کا مقصد کم ایجیکشن فریکشن کے ساتھ ہارٹ فیلئر (HFrEF) کو معمولی حد تک کم یا محفوظ ایجیکشن فریکشن والے ہارٹ فیلئر (HFmrEF/HFpEF) سے الگ شناخت کرنا تھا۔
بتایا گیا کہ اس تحقیق کے لیے دائمی ہارٹ فیلئر کے باعث اسپتال میں داخل ایک ہزار 480 مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں377 مریض HFrEF او ایک ہزار 103 مریض HFmrEF/HFpEF کا شکار تھے، تحقیق میں معمول کے 13 لیبارٹری اشاریوں کو 6 مختلف الگورتھمز میں استعمال کیا گیا۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ HFrEF کے مریضوں میں پرو-بی ٹائپ نیٹری یوریٹک پیپٹائڈ، بلڈ یوریا نائٹروجن، ٹوٹل بلیروبن، ڈائریکٹ بلیروبن، گاما گلوٹامائل ٹرانسفریز، ہیماٹوکرٹ اور یورک ایسڈ کی سطح HFmrEF/HFpEF گروپ کے مقابلے میں زیادہ تھی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ آزاد ٹیسٹ سیٹ میں رینڈم فاریسٹ اور ایکس جی بوسٹ (XGBoost) ماڈلز نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، دونوں کا AUC 0.789 رہا جبکہ لاجسٹک ریگریشن نے بھی تقریباً اسی طرح کی تشخیصی صلاحیت دکھائی، جس کا AUC 0.784 تھا اور درست پیش گوئی کی بھی ٹھیک تھی۔
اسی طرح رینڈم فاریسٹ ماڈل کا بریئر اسکور سب سے کم 0.152 ریکارڈ کیا گیا تاہم مختلف ماڈلز کے اے یو سی کے تقابلی تجزیے میں اعداد و شمار کا کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
مزید بتایا گیا کہ ابتدائی یا طے شدہ حد پر ماڈلز کی حساسیت محدود تھی تاہم رینڈم فاریسٹ کی حد کو 0.15 کرنے سے حساسیت بڑھ کر 0.912 اور منفی پیش گوئی کی قدر 0.935 ہوگئی، اس سے یہ امکان سامنے آیا کہ ماڈل ایسے مریضوں کی ابتدائی چھان بین میں مددگار ہوسکتا ہے جن کے لیے ایکوکارڈیوگرافی ترجیحی بنیاد پر کرانا ضروری ہو۔
تحقیق کے مطابق منفی پیش گوئی قدر(SHapley Additive exPlanations) کے تجزیے میں پرو بی این پی (proBNP) سب سے اہم پیش گوئی کرنے والا عنصر ثابت ہوا۔
تحقیق کاروں نے تحریر کیا کہ اس ماڈل کو بیرونی اور مستقبل میں تحقیق کے ذریعے مزید تصدیق تک ایکوکارڈیوگرافی کے ذریعے ہارٹ فیلئر کی اقسام کی تشخیص کے متبادل کے بجائے ایک ابتدائی معاون آلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔