سائنس دانوں نے کائنات کے آغاز کا مطالعہ کرنے کے لیے مختصر ترین بگ بینگ تخلیق کردی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کے ابتدائی لمحات میں پلازما کس طرح برتاؤ کر رہا تھا اور بعد میں مختلف اقسام کے مادے میں کیسے تبدیل ہوا جن سے ہمارے اردگرد موجود ہر چیز تشکیل پاتی ہے۔
غیرملکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کائنات کے ابتدائی لمحات میں مادہ اس شکل میں موجود نہیں تھا جس شکل میں ہم اسے آج جانتے ہیں، بگ بینگ کے تقریباً 10 لاکھ ویں حصے کے ایک سیکنڈ بعد کائنات انتہائی کثیف اور گرم مادے کے ایک ایسے آمیزے کی شکل میں تھی جس سے سائنسدان کوارک گلوآن پلازما کہتے ہیں۔
یورپی آرگنائزیشن فار نیوکلیئر ریسرچ کے ایک حالیہ تجربے میں ثابت کیا گیا کہ یہ پلازما اس سے کہیں چھوٹے ذرات کے تصادم کے ذریعے بھی پیدا کیا جاسکتا ہے چونکہ اب اس ابتدائی کائناتی مادے کا کوئی قابل رسائی قدرتی ذریعہ موجود نہیں، اس لیے یہ مختصر یا مائیکرو بگ بینگ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ہماری کائنات کے ابتدائی چند منٹوں میں کیا ہوا تھا۔
کائنات کے ابتدائی چند مائیکرو سیکنڈز کے دوران کوارکس اور گلوآنز ابھی پروٹونز اور نیوٹرونز کے اندر محدود نہیں تھے بلکہ انتہائی گرم پلازما کی شکل اختیار کر رکھی تھی، جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی، مادہ ٹھنڈا ہوتا گیا اور کوارکس باہم مل کر بڑے ذرات میں تبدیل ہونے لگے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بڑے جوہری تصادموں میں کوارک گلوآن پلازما کا کئی دہائیوں تک مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین طبیعیات اب اس مادے کی عجیب و غریب حالت کی حدود کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں خاص طور پر وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصادم کے حجم کو آخر کس حد تک کم کیا جاسکتا ہے اور اس کے باوجود ذرات کا ایسا مجموعہ دیکھا جاسکے جو سیال کے ایک قطرے کی طرح برتاؤ کرے۔
حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق یورپی آرگنائزیشن فار نیوکلیئر ریسرچ اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اس کے شریک محققین آکسیجن-16 اور نیون-20 کو آپس میں ٹکرا کر یہ مادہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ دونوں عناصر کا وزن سیسے کے ایٹم کے دسویں حصے سے بھی کم ہے، اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ کیو جی پی پیدا کرنے کے لیے درکار عناصر میں سیسہ سب سے ہلکے عناصر میں سے ایک ہے۔
نیدرلینڈز کے نیلز بوہر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق اور تحقیق کے شریک کار یوژو نے کہا کہ ہم نے اس حد کو مزید آگے بڑھا دیا ہے کہ جوہری مرکزے کتنے چھوٹے ہوسکتے ہیں اور اس کے باوجود ہم اس ابتدائی مادے کو دوبارہ تخلیق کرسکتے ہیں، جس سے آپ چھوٹا بگ بینگ کہہ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب ہم ان بنیادی حالات کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں جو مادے کو اس انتہائی حالت میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ آکسیجن اور نیون کے مرکزوں کے انتہائی چھوٹے حجم کے باوجود ان کے تصادم سے ایسے اشارے ملے جو کیو جی پی میں متوقع رویے سے مطابقت رکھتے تھے، ایک لمحے کے لیے پیدا ہونے والا مادہ سیال کی طرح اجتماعی انداز میں پھیلتا ہوا دکھائی دیا، جس کے بعد وہ ٹھنڈا ہوکر دوبارہ ذرات میں تبدیل ہوگیا۔
یوژو نے مزید کہ کہ امید ہے کہ اس سے ہمیں یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کے ابتدائی لمحات میں یہ پلازما کس طرح برتاؤ کر رہا تھا اور بعد میں یہ ان مختلف اقسام کے مادے میں کیسے تبدیل ہوا جن سے ہمارے اردگرد موجود ہر چیز تشکیل پاتی ہے۔