پنجاب میں مہمان پرندوں کی آمد شروع ہوگئی ہے، جبکہ وائلڈلائف رینجرز پنجاب نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران بٹیر، فاختہ، مرغابی، سانڈھے اور جنگلی خرگوش کے 12 غیر قانونی شکاری گرفتار کرلیے۔
کارروائیوں میں بٹیر کے 13 نیٹنگ گئیرز بھی ضبط کیے گئے، جبکہ پانچ شکاریوں پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 55 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور سات کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے۔
بہاولپور ریجن میں وائلڈلائف رینجرز نے چولستان پبلک وائلڈلائف ریزرو کی آبی گزرگاہوں میں نایاب کونجوں کا ایک بڑا غول دیکھا۔ اسی علاقے میں بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ موجود چنکارہ کے ایک شیر خوار بچے کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
لیاقت پور میں فاختہ کے غیر قانونی شکار میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کرکے ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ بہاولنگر میں بٹیر کی نیٹنگ اور سانڈھے پکڑنے کے الزام میں پانچ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور بٹیر کے دو نیٹنگ گئیرز ضبط ہوئے۔
منچن آباد میں بٹیر کے مبینہ شکاریوں نے وائلڈلائف رینجرز پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
راجن پور میں مرغابی کے دو شکاریوں پر مجموعی طور پر 70 ہزار روپے، جہلم میں جنگلی خرگوش کے ایک شکاری پر 60 ہزار روپے اور چکوال میں بٹیر کی غیر قانونی نیٹنگ پر ایک شکاری کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، جبکہ ایک دوسرے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔
بھکر میں بٹیر کے دو نیٹنگ گئیرز ضبط کرکے دو افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مظفرگڑھ میں بٹیر کے سات نیٹنگ گئیرز ضبط کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
خوشاب میں کتوں کے ذریعے جنگلی خرگوش کے شکار پر ایک شخص کو 70 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ اسی علاقے میں واقع اچھالی جھیل پر تقریباً 100 نایاب فلیمنگوز بھی پہنچ چکے ہیں۔