روس یوکرین جنگ، خوراک و توانائی کے عالمی بحران کی بازگشت سنائی دینے لگی

118

سات مضبوط ترین عالمی معیشتوں پر مشتمل ممالک گروپ جی سیون نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ خوراک اور توانائی کے ایک عالمی بحران کو جنم دے رہی ہے جس سے زیادہ غریب ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جی سیون ممالک نے یوکرین میں موجود اناج کے ذخائر کی روسی ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔

جرمنی کے بحیرہ بالٹک کے ساحل پر منعقدہ تین روزہ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں جی سیون ممالک نے چین سے بین الاقوامی پابندیوں کااحترام کرتے ہوئے یوکرین جنگ کے معاملےپر روس کا ساتھ نہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کانفرنس کے جاری کردہ  اعلامیے میں  کہا گیا ہے کہ ہم دنیا میں خوراک کے بحران کو روکنے کے لیے ایک منظم کثیرالجہتی ردعمل میں تیزی لانے کے لئے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں اپنے کمزور شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

دوسری جانب، جی سیون ممالک نے بیجنگ حکومت پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کی حمایت کرے اور روسی جارحیت میں اس کی مدد نہ کرے۔

 یاد رہے، جی سیون گروپ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ پر مشتمل ہے۔ اختتامی بیانات کے ایک سلسلے میں ان ممالک کے نمائندوں نے افغانستان سے لیکر مشرق وسطی تک کی صورتحال سمیت  وسیع عالمی امور سے متعلق بات کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }