امریکا چین کی پالیسیوں کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، چین کا ردعمل

106

چین نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی گزشتہ روز کی اس تقریر پر کڑی تنقید کی ہے جس میں انہوں نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان طاقت کے توازن پر توجہ مرکوز کراتے ہوئے چینی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تھی۔

جمعرات کو جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے بلنکن نے کہا تھا کہ چین کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ امریکا کے خیال میں چین عالمی نظام کے لیے سب سے سنگین اور طویل مدتی خطرہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے بیجنگ میں میڈیا سے بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ پر منافقت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات بنیادی طور پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، امریکا صرف چین کی ترقی کو روکنا اور اپنی بالادستی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ موجودہ عالمی قوانین میں سے بیشتر امریکی یا پھر چند دوسرے ممالک کی وضع کردہ ہیں۔ امریکا ہمیشہ اپنے ملکی قوانین کو عالمی قانون سے بالاتر رکھتا ہے اور صرف انہی عالمی قوانین پر عمل کرتا ہے جو اس کے حق میں ہوں۔

Advertisement

واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی جنوبی بحرالکاہل میں سکیورٹی سے متعلق بہت سی تجاویز کے ساتھ پڑوسی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جس سے خطے میں چین کا اثر و رسوخ مزید بڑھنے کا امکان ہے اور امریکا کو چین کے ان تمام اقدامات پر گہری تشویش لاحق ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ چین عالمی نظام کو اپنے نظریات کے مطابق چلانے کے عزائم کی تکمیل کے لیے اقتصادی، تکنیکی، فوجی اور سفارتی ذرائع کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بلنکن کے مطابق روس تو عالمی نظام کے لیے موجودہ اور فوری خطرہ ہے لیکن چین طویل مدتی خطرہ ہے۔ امریکا چین کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے ذرائع استعمال کرنا چاہتا ہے۔

وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مطابق امریکا ایک ایسا اسٹرٹیجک ماحول بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کے اندر رہتے ہوئے چین کی حکومت اپنے فیصلے لے سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }