ادارہ فروغ قومی زبان اور اس کی لغت

14

صدر ممنون حسین مرحوم کو آذر بائیجان جانا تھا اور سوال یہ تھا کہ صدر الہام علی ایو کے لیے کیا تحفے منتخب کیے جائیں۔ تحفوں کا انتخاب کچھ ایسا مشکل کام بھی نہیں۔ ری سیل ویلیو رکھنے والی کچھ گھڑیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن مرحوم صدر کے ذہن میں کچھ اور تھا۔ وہ کوئی ایسا بامقصد تحفہ پیش کرنا چاہتے تھے جو مستقبل میں پاکستان کی سرمایہ کاری بن جائے۔ یعنی تحفے کو محض تحفہ نہیں ہونا چاہیے۔

 اس کی حیثیت پاکستانی مصنوعات کے شو کیس کی ہونی چاہیے۔ مشورے دینے والے بہت تھے لیکن بالآخر صدر مملکت کا ذہن ہی کام آیا۔ فیصلہ ہوا کہ صدر الہام علی ایو اور خاتون اول کو چمڑے کی شان دار مصنوعات پیش کی جائیں۔ اس تحفے نے پاکستان کے لیے کئی دروازے کھولے۔ خیر، یہ تذکرہ طویل ہے اور مجھے آپ کو ایک مختلف کہانی سنانی ہے جس کا تعلق آج کی تقریب سے براہ راست ہے۔

باکو اسٹیٹ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس موقع پر صدر صاحب کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کرے گی۔ دورے کے اس پہلو سے فایدہ اٹھا کر میں نے تجویز پیش کی صدر صاحب یونیورسٹی جا رہے ہیں تو اس موقع پر وہ یونیورسٹی کو بھی کوئی شایان شان تحفہ پیش کریں۔ صدر صاحب نے پوچھا کہ تحفے میں کیا پیش کیا جائے؟ میں نے عرض کی کہ اردو ڈکشنری بورڈ کی اردو لغت کا سیٹ۔

‘ لغت ہی کیوں’

اس سے پہلے کہ صدر صاحب کچھ کہتے، پرنسپل سیکریٹری نے سوال کیا۔ میں نے عرض کی کہ تاریخی اصول پر مرتب کی گئی یہ لغت دنیا میں منفرد ہے۔ منفرد اس لیے ہے کہ یہ جس لفظ پر بھی بات کرتی ہے، اس کی صرف جڑ ہی کو تلاش نہیں کرتی بلکہ اس کے آغاز و ارتقا کا پورا سفر بھی بیان کر دیتی ہے۔ یہ خوبی صرف اردو ہی نہیں دنیا کی کسی لغت میں نہیں۔ اس کی ایک خوبی اور بھی ہے۔ روایت کے مطابق زبان کی سند ہمیشہ شعر سے لی جاتی ہے لیکن یہ لغت اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس میں شعر کے ساتھ ساتھ نثر سے بھی سند پیش کی گئی ہے۔

یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جس کا کوئی ثانی اب تک تو نہیں ہے۔ یہ سوال ذہن میں آ سکتا ہے کہ ایسا کیوں ضروری ہے؟ یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے لیکن جو لوگ نظم اور نثر کے مزاج کے فرق کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس لغت کی صورت میں انھیں کتنی بڑی نعمت میسر آ گئی ہے۔میں نے یہ عرض کی لیکن بات ختم نہ کی۔ یہ بتانا ضروری سمجھا کہ کتنے بڑے بڑے لوگوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا جیسے بابائے اردو مولوی عبدالحق، شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی، شان الحق حقی، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، نسیم امروہوی اور جون ایلیا سمیت بہت سے دیگر اکابر اور اہل علم۔

صدر صاحب نے میری عرض داشت توجہ سے سنی اور فیصلہ کر دیا کہ باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو اردو لغت ہی تحفتاً پیش کی جائے گی۔ فیصلہ تو ہو گیا لیکن لغت کیسے حاصل کی جائے، یہ ایک مہم بن گئی۔ اردو لغت بورڈ سے رابطہ کیا گیا، معلوم ہوا کہ اس لغت کی تو اب کوئی ایک جلد بھی دستیاب نہیں ہے۔ ایوان صدر کے مطالبے پر بورڈ نے اپنے ریکارڈ کا ایک سیٹ ارسال کر دیا لیکن سیٹ دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ اردو لغت بورڈ کے بزرگوں نے کس کسمپرسی کے عالم میں کام کیا ہو گا۔ ڈکشنری کا کاغذ باریک ہوتا ہے، اس کا کاغذ بھی باریک تھا لیکن ردی، ہاتھ لگاتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ اس پر طرفہ یہ کہ کئی جلدوں کے کاغذ کا رنگ مختلف تھا اور جلدوں کے سائز میں بھی فرق تھا۔ اندازہ کیجیے کہ یہ وہ تحفہ تھا جو صدر مملکت نے باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو پیش کیا۔

ایک زمانے سے خواہش تھی کہ دنیا کی یہ جدید ترین اور منفرد لغت جو ٹوٹے پھوٹے ٹائپ پر شائع ہوئی ہے، اسے نوری نستعلیق کے دیدہ زیب خط میں کمپوز کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع کیا جائے لیکن یہ بھاری پتھر کون اٹھائے؟ اللہ کا شکر ہے کہ قدرت نے یہ قرعہ فال ہمارے استاد، دوست اور بھائی پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر کے نام نکالا۔ آج اس عظیم الشان لغت کی طبع جدید کی یہ شان دار شکل سامنے آئی ہے تو دو چہرے میرے سامنے آتے ہیں۔ ایک صدر ممنون حسین کا چہرہ جو اس حالت میں باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو لغت پیش کرتے ہوئے کچھ بے چین تھے۔

مجھے یقین ہے کہ آج جس شان و شوکت کے ساتھ یہ لغت ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہ اسے دیکھ کر نہال ہو جاتے۔ دوسرا چہرہ باکو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو کا ہے۔ لغت وصول کرتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ ایک مدت سے خواہش تھی کہ اس لغت کی زیارت ہو سکے اور اس سے استفادے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے ہاتھوں یہ آرزو پوری ہوئی۔ میں سوچتا ہوں کہ ان کی یہ آرزو اگر اس اہتمام اور شان و شوکت سے شائع ہونے والی جلدیں وصول کر کے پوری ہوتی تو کمال ہو جاتا۔ خیر، اب شرمندگی کا داغ دھل چکا ہے اور ہم یہ قابل دید جلدیں اپنے دوستوں اور مہمانوں کو کسی معذرت کے بغیر پیش کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی صاحب ہمارے شکریے کے مستحق ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بزرگوں کی محنت اتنے خوبصورت انداز میں دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے کچھ لوگوں کو معاشرے کا نمک قرار دیا۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے خیر پرورش پاتا ہے اور سماج میں گہرائی اور خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ پردیسی صاحب کا شمار ایسے لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔ یہ توقع بے جا نہ ہو گی کہ لغت کی باقی بیس بائیس جلدیں بھی اسی اہتمام سے شائع ہو کر داد و تحسین کی حق دار بنیں۔ مجھے یقین ہے کہ پردیسی صاحب کے تعاون اور ڈاکٹر سلیم مظہر کی قیادت میں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

اردو لغت کی طبع جدید کی خوشی میں ہمیں ایک اور بات بھولنی نہیں چاہیے۔ یہ کہ کاغذ کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ خود ہماری حکومت بھی پیپر لیس ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کی لغت بھی اسی طرح پیپر لیس ہو رہی ہیں۔ یہی تبدیلی تھی جس کے پیش نظر اس لغت کی ایپ تیار کی گئی۔ یہ بڑی مؤثر اور کامیاب ایپ تھی، افسوس کہ یہ ایپ وسائل کی کمی کی وجہ سے غیر مؤثر ہو گئی۔ اب اردو والوں کو اس کام کے لیے ویب سائٹ پر جانا پڑتا ہے۔ دنیا جتنی تیز رفتار ہو گئی ہے، ویب سائٹ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری قیادت اور ڈاکٹر صاحب کی توجہ اس ایپ کی بحالی پر بھی ضرور ہو گی۔

ڈاکٹر سلیم مظہر کی قیادت میں ادارہ فروغ قومی زبان نے مختصر عرصے میں بڑے بڑے کام کر ڈالے ہیں۔ آج کے زمانے اور اقتصادی حالات میں سو کے قریب کتابوں کی اشاعت معمولی کارنامہ نہیں۔ کم وسائل میں بڑے کاموں پر ہاتھ ڈالنا اور کامیابی سے انھیں انجام تک پہنچانا، ڈاکٹر سلیم مظہر ہی کے بس کی بات ہے۔ اچھا ہو اگر کچھ توجہ جناب اورنگ زیب کھچی صاحب اورجناب اسد الرحمٰن گیلانی صاحب بھی فرمائیں تو ڈاکٹر سلیم مظہر صاحب اس لغت کی اشاعت پر رک نہ جائیں۔ لغت انسانی زندگی کی طرح ہوتی ہے جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی جاتی ہے، لغت کا کام بھی آگے بڑھتا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی مشکلات میرے علم میں ہیں لیکن یہ کہاوت بھی ان ہی جیسے لوگوں کے لیے ہے کہ ہمت مرداں مدد خدا۔

(وفاقی وزیر ثقافت و قومی ورثہ جناب اورنگ زیب کھچی کی زیر صدارت اردو لغت کی طبع جدید کی تقریب اجرا کے موقع پر پڑھا گیا)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }