سعودی عرب میں حکام نے 30 سال سے واش روم میں سموسے بنانے والا پکوان سینٹر سیل کردیا ہے۔
پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں کھانے پینے کی اشیا کی تیاری میں حفظان صحت کا پورا خیال کیا جاتا ہے لیکن کبھی کبھی ایسی خبریں بھی سامنے آجاتی ہیں کہ عام پاکستانیوں کو اپنی رائے بدلنی پڑ جاتی ہے۔
سعودی اخبار عکاز کے مطابق سعودی عرب کے شہر جدہ میں بلدیاتی انتظامیہ نے رہائشی عمارت میں واقع پکوان سینٹر کو سیل کردیا۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سیل کیا گیا پکوان سینٹر غیر قانونی طور پر 30 سال سے قائم تھا۔ اس کے عملے کے پاس حکومت کے جاری کردہ خصوصی ہیلتھ کارڈ بھی نہیں تھے۔
حکام کی جانب سے اس چھاپے کے دوران کسی قسم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ، نہ ہی اس پکوان سینٹر کے مالک کی شہریت ظاہر کی گئی ہے۔
#فيديو |30 عاما يعمل بلا ترخيص ويستخدم مواد منتهية الصلاحية.
️ابراهيم علوي @i_waleeed22
نشمي @nashmiqq @JeddahAmanah #عكاظ #عاجل
لمشاهدة الفيديو https://t.co/ImNDKHGkUb
للتفاصيل https://t.co/QYjPcLVjfC pic.twitter.com/m3EiCibIAN— عكاظ (@OKAZ_online) April 22, 2022
سعودی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پکوان سینٹر میں کھانے پینے کی اشیا واش روم (بیت الخلا) میں تیار کی جاتی تھیں جب کہ یہاں بنائی جانے والی اشیا کے اجزا کی معیاد بھی کئی سال پہلے ختم ہوچکی تھی۔
اخبار کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس پکوان سینٹر کی ایک وڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا پر کیڑے مکوڑے رینگ رہے ہیں جب کہ پکوان سینٹر میں آوارہ بلیاں بھی آزادانہ گھوم رہی ہیں۔